| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
سے نہریں پھو ٹتیں، تو یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی مبارک انگلیوں سے زیادہ عجیب نہیں جب کہ ان سے پانی کا چشمہ رواں ہوا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں! اگر حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مردے جِلانے کا اعجاز بخشا تھا تو یہ زیادہ عجیب نہیں اس زہر آلود بکری سے ، جس نے بھنی ہوئی ہوکر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے کلام کیا اس بکری کی دستی نے عرض کیا: ''مجھے نہ کھا ئیں کیوں کہ میں زہر آلود ہوں۔'' یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر میرے ماں باپ فدا! بے شک حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے خلاف دعافرمائی تو عرض کیا:
رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾
ترجمہ کنزالایمان:اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگرکہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ہم پر ایسی دعائے ضرر کر دیتے تو یقینا ہم سارے کے سارے ہلاک ہوجاتے۔ بے شک عقبہ بن ابی معیط نے آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی پشت مبارک پر بوجھ ڈالا جبکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم حالت نماز میں تھے۔ جنگ احد کے دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ پاک زخمی و خونریز کیا گیا،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے دندان مبارک شہید کئے گئے پھر بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے خیر کے سوا کچھ کہنا گوارا نہ کیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرض کیا خدا یاعزوجل ! میری قوم کو معاف فرما کہ وہ مجھے جانتی نہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر میرے ماں باپ قربان! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا تواضع و انکسار اس حد کو پہنچا ہو ا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ