Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
239 - 273
(۴)حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس روز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تھے، اس کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جس روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات ہوئی ہے ،اس کی ہر چیز اداس ہوگئی ہے اوربعد تدفین ابھی مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تغیر پایا۔ ( کیونکہ اب انھیں مرشدکامل کی صحبت کے انوار کا ملہ دکھائی نہ پڑتے تھے)
(شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الاول فی اتمامہ تعالیٰ .....الخ،ج۱۲،ص۱۷۶)
(۵)دربار رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے شاعر حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مرثیہ لکھا، اس کے چند پُر درد اشعار کا ترجمہ درج ذیل ہے، جس سے ان کے رنج و غم کے گہرے اور سچے جذبات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

''تیری نیند کے اچاٹ ہونے کا سبب اس عظیم انسان کی جدائی ہے جو ہمارا ہادی ورہنماہے، صد افسوس! کہ وہ جو زمین پر بہترین ہستی تھی، آج زیر زمین مدفون ہے۔ اے میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم !کاش ایسا ہوتا کہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے بقیع الغرقد میں دفن ہوجاتا۔ میرے ماں باپ اس نبی کامل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر فدا ہوں جوپیر کے روز ہمیں داغ مفارقت دے گیا۔ مدینہ کی سر زمین مجھے ویران و سنسان دکھائی دیتی ہے۔ کاش! میں آج کے دن کے ليے پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔اے میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم !کیا میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر مدینہ میں رہ سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال میرے لئے جام زہر سے تلخ تر ہے۔ میرے آقا !صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کا پاک وجود ایسا نور تھا جس نے تمام روئے زمین کو روشن کر رکھا تھا۔ جس نے بھی اس نور سے فیض پایا اس نے ہدایت پائی۔'
Flag Counter