Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
240 - 273
'' اے ہمارے رب عزوجل! ہمیں اپنے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جنت الفردوس میں اکٹھا کردے ۔ خدا عزوجل کی قسم!جب تک میں زندہ رہوں گا اپنے محبوب آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے روتا او ر تڑپتار ہوں گا۔''
         (السیرۃ النبویۃ،شعرحسان بن ثابت فی مرثیتہ،ج۴،ص۵۵۸۔۵۶۲)
 (۶) حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا، ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو یاد کرکے رونے لگیں۔ حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا، آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے خد ا تعالی کے پاس(یہاں سے) بہتر نعمتیں موجود نہیں؟ انہوں نے بھی تصدیق کی، لیکن اپنے رونے کا یہ سبب بتلایا کہ وحی آسمانی کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے۔ اس پر ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی شریک گریہ و غم ہوگئے۔
 (الوفا فی احوال المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم(مترجم)باب وصال مصطفی اور کیفیت صحابہ،ص۸۱۷)
    الغرض صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور امت محمدیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں سے ہر شخص آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر سوگوار تھا اور یاس و حرمان کی تصویر بنا ہواتھا۔ 

فراقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تأثرات

حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خطاب سن کر جب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین ہوگیاکہ سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال ہوچکا تو ایک وقت دیکھا گیا کہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ رورہے ہیں اور یہ کلمات عرض کررہے ہیں:
السلام علیک یارسول اللہ بابی انت وامی لقد کنت تخطبنا علی جذع
Flag Counter