علیہ وآلہٖ وسلم کے انتقال کی خبر کون پہنچائے؟الٰہی عزوجل! روح فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کو روح محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس پہنچادے۔ الٰہی عزوجل ! مجھے دیداررسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے مسرور کردے۔ الٰہی عزوجل! مجھے اس مصیبت کو جھیلنے کے ثواب سے بے نصیب نہ رکھنا اور روز محشر محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت سے محروم نہ فرمانا۔''
(۲)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سانحہ عظیم پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:ہائے افسوس! وہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم جس نے فقر کو غنا پر، اور مسکینی کو دولت مندی پر ترجیح د ی ،افسوس !وہ معلم دین جو گناہ گار امت کی فکر میں کبھی پوری رات آرام سے نہ سویا، ہم سے رخصت ہوگیا۔ جس نے ہمیشہ صبر وثبات سے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ کیا،جس نے برائیوں پر کبھی توجہ نہ کی،جس نے نیکی اور احسان کے دروازے کبھی ضرورت مندوں پر بند نہ کئے،جس روشن ضمیر کے دامن پر دشمنوں کی ایذار سانی کا گردو غبار کبھی نہ بیٹھا۔
(۳)حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو آخری غسل دیتے ہوئے جو تاریخی الفاظ کہے وہ ساری امت کے جذبات رنج و غم کے ترجمان ہیں۔
'' میرے ماں باپ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر نثار، آپ کی موت سے وہ چیز جاتی رہی جوکسی دوسرے کی وفات سے نہ گئی تھی، یعنی غیب کی خبروں ، او ر وحی آسمانی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی موت صدمہ عظیم ہے۔ اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا،اور آہ وزاری سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر آنسو بہادیتے پھر بھی اس درد کا علاج اور زخم کا اندمال نہ ہوتا۔''