Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
237 - 273
 لے کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم تو فوت ہوگئے لیکن جوشخص اللہ تعالیٰ کی عباد ت کرتاتھا تو یقینا اللہ تعالی زندہ ہے اسے موت نہیں۔اس کے بعد سورۂ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انۡقَلَبْتُمْ عَلٰۤی اَعْقَابِکُمْ ؕ وَمَنۡ یَّنۡقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللہَ شَیْـًٔا ؕ وَسَیَجْزِی اللہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
ترجمہ کنزالایمان: اورمحمدتو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کریگا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا۔(پ4،اٰل عمران:144)

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ آیت پڑھی تو لوگ ایسے ہوگئے کہ گویاانھوں نے کبھی پہلے یہ آیت سنی ہی نہ تھی۔ اس وقت لوگوں نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کو سن کر اپنی یادتازہ کرلی، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا بیان ہے جس وقت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان سے میں نے یہ آیت سنی مجھ کو ایسا معلوم ہوا کہ گویا میرے پاؤں کٹ گئے میں کھڑا نہ رہ سکااسی وقت زمین پر گر پڑا اور میں نے جانا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال ہوگیا۔
(مدارج النبوت،باب دوم،درذکر وقائع...الخ، ج۲،ص۴۳۳،۴۳۴)
غم والم کے بادلوں کا چھاجانا
(۱)۱ ۤپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرا ء رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے اس غم والم کے موقع پر یہ الفاظ ارشاد فرمائے:'' میرے پیارے باپ نے دعوت حق کو قبول فرمایا اور فردوس بریں میں نزول فرمایا، آہ جبرائیل علیہ السلام کو آنحضور صلی اللہ تعالیٰ
Flag Counter