حالتِتحیُّر: مسلمانوں کو جب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحلت کی اطلاع ملی تو وہ ششدروساکت رہ گئے ، ان میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیال تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فوت نہیں ہوئے، صرف حالت بے ہوشی میں ہیں ، چنانچہ انھوں نے مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
بعض منافقین یہ خبر اڑارہے ہیں کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوگئے ،لیکن یہ بات بالکل غلط ہے۔ وہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرح اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی قوم میں چالیس دن موجود نہ رہے تھے اور ان کی غیر حاضری میں لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ وہ فوت ہوگئے، لیکن جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آگئے اسی طرح محمد رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم واپس آئیں گے اور وہ لوگ جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کی خبر مشہور کررہے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں قلم کریں گے۔
انکشاف ِحقیقت : اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا خاموش ہو جاؤ، لیکن وہ اپنی تقریر میں منہمک رہے۔ تب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے کہا: جو کچھ میں کہتا ہوں اسے غور سے سنو! سب لوگ متوجہ ہوئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:
'' اے لوگو!تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی پرستش کرتا تھاوہ سن