| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
حضرت محمد بن اسلم رضی اللہ عنہ نہایت کبیرا لسن صحابی تھے۔ لیکن جب بازار سے پلٹ کر گھر آتے اور چادر اتارنے کے بعد یا د آتا کہ انھوں نے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں نماز نہیں پڑھی تو کہتے کہ خدا عزوجل کی قسم! میں نے مسجد رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں نماز نہیں پڑھی،حالانکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا کہ جو شخص مدینہ میں آئے تو جب تک اس مسجد میں دورکعت نماز نہ پڑھ لے گھر واپس نہ جائے، یہ کہہ کر چادر اٹھاتے اور مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں دورکعت نماز پڑھ کے گھر واپس آتے۔
(اسدالغابۃ،تذکرۃ محمد بن اسلم الانصاری،ج۵،ص۸۰ )
غزوہ احزاب میں سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ کفار کی خبر لائیں ، لیکن ان سے چھیڑچھاڑ نہ کریں، وہ آئے تو دیکھا کہ ابوسفیان آگ تاپ رہے ہیں، کمان میں تیر جوڑ لیا اور نشانہ لگانا چاہا ، لیکن رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا حکم یاد آگیا اور رک گئے۔
(صحیح المسلم، کتاب الجھادوالسیر،باب غزوۃ الأحزاب،الحدیث:۱۷۸۸، ص۹۸۸)
جو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ابورافع بن ابی الحقیق کو قتل کرنے گئے تھے ان کو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے حکم دیا تھا کہ اس کے بچوں اور عورتوں کو نہ قتل کریں۔ ان لوگوں نے اس شدت کے ساتھ اس حکم کی پابندی کی کہ ابن ابی الحقیق کی عورت نے باوجودیکہ اس قدرشور کیا کہ قریب تھا ان کا راز فاش ہوجاتا، لیکن ان لوگوں نے صرف آپ کے حکم کی بنا پر اس پر ہاتھ اٹھانا پسند نہ کیا۔
(المؤطالامام مالک، کتاب الجھاد، باب النھی عن قتل النساء، والولدان فی الغزو،الحدیث:۱۰۰۲،ج۲،ص۸)