Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
232 - 273
یہی جواب تھا، چنانچہ جب وہ قتل ہوچکا تو سواری سے اترے ۔
 (سنن ابی داود ، کتاب الحدود، باب الحکم فی من ارتد، الحدیث:۴۳۵۴، ج۴،ص۱۶۹)
لیکن اس کے بعد کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکو تقریباً بیس دن تک سمجھایا، لیکن جب وہ راہ راست پر نہ آیا تو قتل کردیا۔
                (المرجع السابق،الحدیث:۴۳۵۶،ج۴،ص۱۷۰)
    ایک بار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک مجلس میں آئے ایک شخص نے اٹھ کر ان کے لئے اپنی جگہ خالی کردی تو انھوں نے اس کی جگہ بیٹھنے سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے۔
 (سنن ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب فی الرجل یقوم للرجل من مجلسہ،الحدیث: ۴۸۲۷،ج۴،ص۳۳۹)
ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک سائل آیا، انھوں نے اس کو روٹی کاایک ٹکڑا دیدیا، پھر اس کے بعد ایک خوش لباس شخص آیا تو انھوں نے اس کو بٹھا کر کھانا کھلایا۔ لوگوں نے اس تفریق پر اعتراض کیا تو بولیں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاہے:
'' انزلو الناس مناز لھم''
ہر شخص سے اس کے درجہ کے مطابق برتاؤ کرو۔
 (سنن ابی داود، کتاب الادب ،باب فی تنزیل الناس منازلھم، الحدیث:۴۸۴۲، ج۴، ص۳۴۳)
    ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے دیکھاکہ راستے میں مردعورتیں مل جل کر چل رہے ہیں ۔عورتو ں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا: پیچھے رہو تم وسط راہ سے نہیں گزر سکتیں۔اس کے بعد یہ حال ہوگیا کہ عورتیں اس قدر گلی کے کنارے سے چلتی تھیں کہ ان کے کپڑے دیواروں سے الجھ جاتے تھے۔
 (المرجع السابق،باب فی مشی النساء مع الرجال فی الطریق، الحدیث:۵۲۷۲، ج۴،ص۴۷۰)
Flag Counter