Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
231 - 273
رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کے متعلق جو احکام جاری فرمائے تھے ان میں ایک یہ تھا۔
'' لایبع حاضر لباد ''
شہری آدمی بدویوں کا مال نہ بکوائے ( یعنی اس کا دلال نہ بنے)
ایک بار ایک بدوی کچھ مال لیکر آیا تو حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے یہاں اترا لیکن انھوں نے کہا کہ میں خود تو تمہارا سودا نہیں بکوا سکتا، البتہ بازار میں جاؤ بائع کی تلاش کرومیں صرف مشورہ دیدونگا۔
 (سنن ابی داود، کتاب الاجارۃ، باب فی النھی أن یبیع حاضر لباد، الحدیث: ۳۴۴۱،ج۳،ص۳۷۱)
    حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے سامنے مداین کے ایک رئیس نے چاندی کے برتن میں پانی پیش کیا، انھوں نے اس کو اٹھا کر پھینک دیا، اور فرمایا کہ میں نے اس کو منع کیا تھا، یہ باز نہ آیا، رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔
 (سنن ابی داود، کتاب الاشربۃ، باب فی الشرب فی آنیۃ الذھب والفضۃ، الحدیث:۳۷۲۳،ج۳،ص۴۷۳)
    رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پہلے یمن کی گورنری پر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، ان کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک مجرم کو دیکھا، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سواری سے اترنے کے لئے کہا لیکن انھوں نے مجرم کی طرف اشارہ کرکے پوچھا یہ کون ہے؟ بولے یہودی تھا اسلام لایا پھر مرتد ہوگیاہے، فرمایا جب تک خد ا اور رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق قتل نہ کردیا جائیگا، میں نہ بیٹھوں گا۔ انھوں نے بیٹھنے پر اصرار کیا، لیکن ان کا
Flag Counter