Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
230 - 273
رَاْسی
یعنی اس دن سے میں نے اپنے سر سے دشمنی کرلی اور برابر بال ترشواتے رہے۔ حدیث میں ہے کہ یہ فقرہ انھوں نے تین بار فرمایا۔
 (سنن ابی داود،کتاب الطہارۃ، باب فی الغسل من الجنابۃ، الحدیث:۲۴۹، ج۱، ص۱۱۷)
     رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے شوہر کے علاوہ دیگر اعزہ کے سوگ کے لئے تین دن مقرر فرمائے تھے، صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے اسکی اس شدت سے پابندی کی جب حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بھائی کا انتقال ہوگیا، تو غالباً چوتھے دن انھوں نے خوشبولگائی، اور کہا کہ مجھ کو خوشبو کی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے منبرپرسنا ہے کہ کسی مسلمان عورت کو شوہر کے سواتین دن سے زیادہ کسی کا سوگ جائز نہیں،اس لئے یہ اسی حکم کی تعمیل تھی۔ـ''
    جب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے والدنے انتقال کیا تو انھوں نے تین روز کے بعد اپنے رخساروں پر خوشبو ملی اور کہا مجھے اسکی ضرورت نہ تھی،صرف اس حکم کی تعمیل مقصود تھی۔
 (سنن ابی داود، کتاب الطلاق،باب احدادالمتوفی عنہازوجھا،الحدیث:۲۲۹۹، ج۲،ص۴۲۲)
    پہلے یہ دستور تھا کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سفر جہاد میں کسی منزل پر قیام فرماتے تھے تو ادھر ادھر پھیل جاتے تھے، ایک بار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا کہ یہ تفرق و تشتت شیطان کا کام ہے۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس کی اس شدت سے پابندی کی کہ جب بھی منزل پر اترتے تھے تواس قدر سمٹ جاتے تھے کہ اگر ایک چادرتان لی جاتی توسب کے سب اس کے نیچے آجاتے۔
 (سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب مایؤمرمن انضمام العسکر،الحدیث:۲۶۲۸، ج۳،ص۵۸)
Flag Counter