| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
سے نکاح کرنے کے لئے بھیجاہے، سب نے ان کاخیر مقدم کیا اور کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ناکام نہیں جاسکتا ۔ چنانچہ فورًا انھوں نے انکی شادی کروائی اور تحائف دئیے۔
(المسند لامام احمد بن حنبل، حدیث ربیعۃ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ، حدیث:۱۶۵۷۷،ج۵،ص۵۶۹)
پابندی احکامِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احکام وقتی ہوتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم فورًا ان کی تعمیل کرتے تھے ۔اورجودائمی ہوتے ہمیشہ اس کے پابندرہتے تھے اوراس کے خلاف کبھی ان سے کوئی حرکت صادر نہیں ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں عورتیں بھی شریک جماعت ہوتی تھیں۔ اس حالت میں اقتضائے کمال عفت و عصمت یہ تھا کہ ان کے لئے مسجد کا ایک دروازہ مخصوص کردیا جائے۔ اس بنا پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک روز ارشاد فرمایا:
'' لوترکنا ھذا الباب للنسآء ''
کاش ہم یہ دروازہ صرف عورتوں کے لئے چھوڑدیتے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھمانے اس شدت کے ساتھ اس کی پابندی کی کہ تادم مرگ اس دروازہ سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔
(سنن ابی داود، کتاب الصلوۃ، باب التشدیدفی ذالک،الحدیث:۵۷۱، ج۱، ص۲۳۵)
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال کو بھی خشک چھوڑدیا اس پر دوزخ میں عذاب ہوگا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس پر جس شدت سے عمل کیااس کو خود انھوں نے بیان کیا ہے۔
فَمِنْ ثَمَّ عادَیتُ