| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
انسان کے اندر والدین ، اولاد،بھائی ، بیوی، خاندان اور مال ، تجارت اور مکان ان سب چیزوں سے محبت فطری چیز ہے ، لیکن رب تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اگر تمھارے اندر ان سب چیزوں کی محبت میری اور میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت سے بڑھ جائے تو تم گویا خطرہ کی حد میں داخل ہوچکے ہوا ور بہت جلد تم کو میراغضب و عذاب اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک مومن کے لئے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت نہ صرف یہ کہ فرض ہے بلکہ سب سے قریبی رشتہ داروں اور سب سے قیمتی متاع پر مقدم ہے۔ خود رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان ، باب حب الرسول.....الخ،الحدیث:۱۵،ج۱، ص۱۷)
یعنی تم میں کا کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسکے نزدیک اس کے والد اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب نہ ہو جاؤں۔
ایک روزحضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں تو نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:'' اس کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی(کامل)مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسکے نزدیک اسکی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں''۔ یہ سنکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی آپ میری جان