| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: گھبراؤ نہیں میں تو اس عورت کا لڑکا ہوں جو گوشت کے سوکھے ٹکڑتے کھایا کرتی تھی۔ ایک بار ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كو مسجد میں اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان پر آپ کے اس خشوع وخضوع کی حالت کا یہ اثر پڑا کہ کانپ اٹھیں۔
(سنن الترمذی، الشمائل، باب ماجاء فی جلسۃ رسول اللہ، الحدیث:۱۲۶، ج۵، ص۵۲۵)
اس رعب و داب کا یہ اثر تھا کہ صحا بہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے لب کشائی کی جرأت نہ کرپاتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عصر یا ظہر کی نماز میں صرف دو رکعتیں ادافرمائیں، بہت سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد سے یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ رکعات نماز میں کمی کردی گئی ۔ جماعت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي ہیبت سے کچھ پوچھ نہیں سکتے تھے بالآخر حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت فرمایا کہ آپ بھول گئے یا نماز میں کمی ہوئی، تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان کی تائید کی لیکن زبان نہ ہل سکی، بلکہ اشاروں میں حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
(سنن ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب السھوفی السجدتین، الحدیث: ۱۰۰۸، ج۱، ص۳۷۷)
حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ بڑے پایہ کے صحابی تھے۔ لیکن ان کا بیان ہے کہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حلیہ نہیں بیان کرسکتا۔ کیوں کہ میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کوکبھی آنکھ بھر کر دیکھنے کی جرأت نہیں کی۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ .....الخ،الحدیث: ۱۲۱، ص۷۴)