Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
225 - 273
انصار کا یہ معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی جانے بغیر اپنی بیواؤں کی شادی نہیں کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا: تم اپنی لڑکی کا نکاح کردو، وہ تومنتظرہی تھے، باغ باغ ہوگئے لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اپنے لئے نہیں بلکہ جلبیب کے لئے پیغام دیتا ہوں ، جلبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ظریف الطبع صحابی تھے جو عورتوں کے ساتھ ظرافت اور مذاق کی باتیں کیا کرتے تھے، اس لئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کو عموماً ناپسند کرتے تھے، انھوں نے جلبیب کا نام سنا تو بولے، اس کی ماں سے مشورہ کرلوں، ماں نے جلبیب کا نام سنا تو انکار کردیا۔ لیکن لڑکی نے کہا، رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نا منظور نہیں کی جاسکتی مجھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے حوالے کردو، آپ مجھے ضائع نہ کریں گے۔
 (المسندلامام احمد بن حنبل،مسند البصریین، الحدیث ابی برزۃ الاسلمی، الحدیث:۱۹۸۰۵،ج۷،ص۱۸۴)
ہیبتِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے وقار و عظمت کی بنا پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے سامنے اس قدر مرعوب ہو جاتے تھے کہ جسم میں رعشہ پڑجاتا تھا۔

    ایک بار ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔لیکن دو شخص جو مسجد کے ایک گوشہ میں تھے، شریک نماز نہیں ہوئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کو باز پرس کے لئے طلب فرمایا ، تو وہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ جسم میں لرزہ پڑگیا۔
 (سنن ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب فیمن صلی فی منزلہ.....الخ،الحدیث: ۵۷۵، ج۱،ص۲۳۷)
    ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے بات چیت کی لیکن ان پر اسقدر رعب طاری ہوا کہ جسم میں رعشہ پڑگیا آپ صلی اللہ
Flag Counter