صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنی ذاتی حیثیت بالکل فنا کردی تھی اور اپنی ذات اور اپنی آل اولاد کو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردیا تھا۔ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ایک صحابیہ تھیں،ان سے ایک طرف تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جو نہایت دولتمند صحابی تھے نکاح کرنا چاہتے تھے، دوسری طرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے متعلق ان سے گفتگو کی تھی، جنکی فضیلت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تھاکہ جو مجھے دوست رکھتا ہے چاہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو بھی دوست رکھے۔ لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی قسمت کا مالک بنادیااور کہا میرا معاملہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ میں ہے جس سے چاہے نکاح کر دیجیے۔