یہ تو اہل بیت کی حالت تھی۔ اہل بیت کے علاوہ اور تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم غم والم کی تصویر بنے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃو السلام میں گریہ کناں تھے اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو یقین دلارہے تھے کہ ابھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ حالت آکر دیکھی تو کسی سے بات چیت نہیں کی، سیدھے آپ کے جسد اطہر مبارک تک چلے گئے، وجہ انورسے کپڑا ہٹا کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو بوسہ دیا اورروئے۔ وہاں سے نکل کر لوگوں کو سمجھایا تو سب کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی موت کا یقین آیا۔
(المرجع السابق،الحدیث:۴۴۵۳۔۴۴۵۴،ج۳،ص۱۵۸)
ایک شخص صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قلق و اضطراب کا یہ عالم دیکھ کر مدینہ سے عمان آیا تو لوگوں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کی خبر دی اور کہا کہ میں مدینہ کے لوگوں کو ایسے حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ انکے سینے دیگچی کی طرح ابال کھارہے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن ابی لیلیٰ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میں بچہ تھا ، لوگ اپنے سروں اور کپڑوں پر خاک ڈال رہے تھے۔ اور میں ان کے گر یہ وبکا کو دیکھ کر روتا تھا۔
(اسدالغابۃ،تذکرۃ عبداللہ بن ابی لیلٰی،ج۳،ص۳۸۳)