رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جو محبت تھی، اس کا اثر آپ کی زندگی میں جن طریقوں سے ظاہر ہوتا تھا، اس کا حال اوپر گزر چکا، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ، اس محبت کا اظہار صرف گریہ و بکاء ،آہ وفریاد اور نالہ وشیون کے ذریعہ سے ہوسکتا تھا۔ او رصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے غم میں یہ دردانگیز صدائیں اس زور سے بلند کیں کہ مدینہ بلکہ کل عرب کے درودیوار ہل گئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر موت کے آثار بتدریج طاری ہوئے۔ جمعرات کے دن علالت میں اشتدا د پیدا ہوا،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ دن یاد آتا تھا، تو کہتے تھے، جمعرات کا دن، ہائے جمعرات کا دن، وہ جس میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم كي علالت میں شدت آئی، نزع کا وقت قریب آیا تو غشی طاری ہوئی۔