Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
222 - 273
غمِ ہجرِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جو محبت تھی، اس کا اثر آپ کی زندگی میں جن طریقوں سے ظاہر ہوتا تھا، اس کا حال اوپر گزر چکا، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ، اس محبت کا اظہار صرف گریہ و بکاء ،آہ وفریاد اور نالہ وشیون کے ذریعہ سے ہوسکتا تھا۔ او رصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے غم میں یہ دردانگیز صدائیں اس زور سے بلند کیں کہ مدینہ بلکہ کل عرب کے درودیوار ہل گئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر موت کے آثار بتدریج طاری ہوئے۔ جمعرات کے دن علالت میں اشتدا د پیدا ہوا،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ دن یاد آتا تھا، تو کہتے تھے، جمعرات کا دن، ہائے جمعرات کا دن، وہ جس میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم كي علالت میں شدت آئی، نزع کا وقت قریب آیا تو غشی طاری ہوئی۔
 (صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہٖ، الحدیث:۴۴۳۱، ج۳،ص۱۵۲ )
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے یہ حالت دیکھی تو بے اختیار پکار اٹھیں '' واکر باہ'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو ا تو یہ الفاظ کہکر آپ پر روئیں،
یاابتاہ! اجاب ربا دعاہٗ یا ابتاہ! من جنۃ الفردوس ماواہ یا ابتاہ! الیٰ جبرئیل علیہ السلام ننعاہ۔
    '' لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تدفین کر کے آئے توانھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نہایت دردانگیز لہجے میں پوچھا ، کیوں انس، کیسے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ
Flag Counter