Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
221 - 273
ناراضگی کاذکر کیا ،سبب معلوم ہو ا تو انھوں نے قبہ کو گرا کر زمین کے برابر کردیا۔
 (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ماجاء فی البناء، الحدیث:۵۲۳۷،ج۴، ص۴۶۰)
    ناراضگی کے بعد اگرحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوجاتے تو گویا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دولت جاوید مل جاتی، ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سفر میں تھے، حضرت ابو رُہم رضی اللہ عنہ کی اونٹنی آپ کے ناقہ کے پہلو بہ پہلو جارہی تھی، حضرت ابورہم رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں سخت چمڑے کے جوتے تھے ، اونٹنیوں میں مزاحمت ہوئی تو ان کے جوتے کی نوک سے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ساق مبارک میں خراش آگئی، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے پاؤں میں کوڑا مارکر فرمایا: تم نے مجھ کو دکھ دیا، پاؤں ہٹاؤ، وہ سخت گھبرائے کہ کہیں میرے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ہوجائے ۔

     مقام جعرانہ میں پہنچے تو گوکہ ان کی اونٹ چرانے کی باری نہ تھی، تاہم اس خوف سے کہ کہیں رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا قاصد میرے بلانے کے لئے نہ آجائے، صحرا میں اونٹ چرانے کے لئے نکل گئے، شام کوپلٹے تو معلوم ہو ا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے طلب فرمایا تھا، مضطربانہ حاضر خدمت ہوئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم نے اذیت پہنچائی، اور میں نے بھی تمہیں کوڑا مارا، جس سے تمہیں اذیت پہنچی ، اسکے عوض میں یہ بکریاں لو، ان کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ رضامندی میرے لئے دنیاومافیہا سے زیادہ محبوب تھی۔
            (الطبقات الکبری،تذکرۃ ابو رُھم الغفاری،ج۴،ص۱۸۴)
Flag Counter