| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
بھی اپنا خیمہ نصب کروایا۔ حضرت صفیہ کو خیال ہو ا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ناراض ہوگئے ، اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا مندی کی تدبیریں اختیار کیں۔
اس غرض سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس گئیں اور کہا کہ آپ کومعلوم ہے کہ میں اپنی باری کا دن کسی چیز کے معاوضے میں نہیں دے سکتی لیکن اگر آپ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کردیں تو میں اپنی باری آپ کو دیتی ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آمادگی ظاہر کی، اور ایک دوپٹا اوڑھا جو زعفرانی رنگ میں رنگا ہواتھا، پھر اس پر پانی چھڑکا کہ خوشبو او رپھیلے ، اس کے بعد آپ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس گئیں، اور خیمہ کا پردہ اٹھایا، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ تمھارا دن نہیں ہے بولیں:ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآء
(ترجمہ کنزالایمان: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ (پ۶،المائدۃ:۵۴))
(المسندلامام احمد بن حنبل،حدیث صفیۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا،الحدیث: ۲۶۹۳۰،ج۱۰،ص۲۵۳)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اکثر اپنی ناراضگی کا اظہار علانیہ طور پر نہیں فرماتے تھے، لیکن جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپ کے چشم و ابرو سے اس کا احساس ہو جاتا تھا تو فوراً آپ کو راضی کرتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک راستے سے گزرے ، راہ میں ایک بلند قبہ نظر سے گزرا تو فرمایا یہ کس کا ہے، لوگوں نے ایک انصاری کا نام بتایا، آپ کو یہ شان وشوکت ناگوار ہوئی، مگر اس کا اظہار نہیں فرمایا، کچھ دیر کے بعد انصاری بزرگ آئے، اور سلام کیا، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے رخ انور پھیر لیا، باربار یہ واقعہ پیش آیا تو انھوں نے دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی