| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے وہ چیز مانگتی ہو جو(اس وقت) آپ کے پاس (موجود) نہیں ہے۔
(صحیح المسلم،کتاب الطلاق،باب بیان أن تخییرامرأتہ لایکون طلاقا الابالنیۃ،الحدیث۱۴۷۸،ص۷۸۳)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے قطع کلام کر لیا اور تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی یہی حکم دیا، تو ان کوسب سے زیادہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا مندی کی فکر تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نماز کے بعد تھوڑی دیر تک مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، اس حالت میں وہ آتے اور سلام کرتے اور دل میں کہتے کہ لبہائے مبارک کو سلام کے جواب میں حرکت ہوئی یا نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کے متصل نماز پڑھتے اورکَن انکھیوں سے آپ کی طرف دیکھتے جاتے۔
(صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب حدیث کعب بن مالک.....الخ،الحدیث: ۴۴۱۸،ج۳،ص۱۴۷)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم حجۃ الوداع کے لئے تشریف لے گئے تو تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن ساتھ تھیں، سوء اتفاق سے راستے میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ تھک کر بیٹھ گیا، وہ رونے لگیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كو خبر ہوئی توخود تشریف لائے اور دست مبارک سے ان کے آنسو پونچھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم جس قدران کو رونے سے منع فرماتے تھے اس قدر وہ اور زیادہ روتی تھیں۔ جب کسی طرح چپ نہ ہوئیں، تو انکوسرزنش فرمائی، اور تمام لوگوں کو منزل کرنے کا حکم دیا، اور خود