Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
218 - 273
ترجمہ : ہم نے خدا عزوجل کو اپنا پروردگار، اسلام کو اپنا دین ، اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنا پیغمبر مانا ہے، اور خدا عزوجل اور خدا کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں۔''اس فقرے کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي ناراضگی ختم ہو گئی۔
 (سنن ابی داود،کتاب الصوم، باب فی صوم الدھر،الحدیث:۲۴۲۵، ج۲، ص۴۷۳)
اس لئے اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کسی ناگوار واقعہ سے کبیدہ خاطر ہوجاتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہر ممکن تدبیر سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو راضی کرنا چاہتے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن سے ایلاء کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پرمصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو راضی کرنا چاہا، اور دردولت پر تشریف لے گئے۔ دربان نے روک لیا ۔سمجھے کہ شاید حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو یہ خیال ہے کہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی خاطر آئے ہیں۔ اسلئے دربان سے کہا کہ اگر سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ خیال ہے تو کہدو کہ خداعزوجل کی قسم! آپ حکم دیں تو حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی گردن اڑادوں۔

    حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ پہلے آ چکے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہنسانے کیلئے کہا اگر بنت خارجہ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ) مجھ سے نا ن و نفقہ طلب کرتیں تو میں اٹھ کے ان کی گردن تو ڑ دیتا ، آپ ہنس پڑے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ لوگ مجھ سے نفقہ ہی تو مانگ رہی ہیں۔ دونوں بزرگ اٹھے اور حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کی گردن توڑنی چاہی اور کہا رسول اللہ
Flag Counter