Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
217 - 273
حضرت کعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مشہور قصیدہ ''بانت سعاد ''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےسامنے پڑھا،تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اس کو سنکر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: کہ اسکو سنو!

    غزوہ تبوک سے واپسی پر حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نعت سنانے کی اجازت طلب کی اور انھوں نے پیش کی۔ اس طرح بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نعت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کہی،جن میں سے بہت سی نعتیں ''المدیح النبوی'' میں مندرج ہیں۔
رضائے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے سخت گھبراتے تھے اور اس سے پناہ مانگتے تھے۔

    ایک بار کسی نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آباواجداد میں کسی کو برا بھلاکہا ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایاکہــ'' عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں ، ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہو جس سے ہمارے زندوں کے دل دکھیں۔''یہ سنکر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا ہم آپ کی ناراضی سے پنا ہ مانگتے ہیں، ہمارے لئے استغفار کیجئے۔
(سنن النسائی، کتاب القسامۃ، باب القودمن اللطمۃ،ج۸،ص۳۳)
ایک بار کسی نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کے روزے کے متعلق پوچھا ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر ناگوار گزرا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حالت دیکھی تو کہا:
    رضینا باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا ، نعوذ باللہ من غضب اللہ وغضب رسولہ۔
Flag Counter