Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
216 - 273
نعتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    قرآن مجید کے مواعظ اور رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے کلمات طیبہ نے اگرچہ عہد صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں شاعری کے دفتر پر پانی پھیردیا تھا۔ تاہم بلبلان باغ قدس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي مدح میں کبھی کبھی زمزمہ خواں ہوجاتے تھے ، اور چونکہ یہ اشعار سچے دل سے نکلتے تھے، اور سچی تعریف پر مشتمل ہوتے تھے، اس لئے دلوں پر اثرڈالتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن زبیر، اورحضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم کا یہ خاص مشغلہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند مدحیہ اشعار بخاری میں مذکورہیں۔
وفینا رسول اللہ یتلو کتاب 

اذا انشق معروف من الفجر ساطع
''یعنی ہم میں خداعزوجل کا پیغمبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہے جب صبح نمودار ہوتی ہے توخداعزوجل کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے۔''
ارانا الھدی بعد العمی فقلوبنا

بہ موقنات ان ماقال واقع
''گمراہی کے بعد اس نے ہم کو راہ راست دکھائی ، اسلئے ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ جو کچھ اس نے فرمایا وہ ضرور ہوکر رہے گا۔''
یبیت یجافی جنبہ عن فر اشہ

اذاستثقلت بالمشرکین المضاجع
''وہ راتوں کو شب بیداری کرتا ہے ، حالانکہ اس وقت مشرکین گہری نیند سوتے ہیں۔''
 (صحیح البخاری، کتاب التھجد،باب فضل من تعارمن اللیل فصلی،الحدیث: ۱۱۵۵،ج۱،ص۳۹۱)
Flag Counter