ایک روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر تشریف لے جانے کا وعدہ کیا، انھوں نے نہایت اہتمام سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم كي دعوت کا سامان کیا۔ اورزوجہ سے کہا، دیکھو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے ہیں تمہاری صورت نظر نہ آئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كو کوئی تکلیف نہ دینا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے بات چیت نہ کرنا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لائے تو بستر بچھایا، تکیہ لگایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مصروف خواب استراحت ہوئے، تو غلام سے کہا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جاگنے سے پیشتر بکری کے اس بچے کو ذبح کرکے پکالو، ایسا نہ ہو کہ آپ منہ ہاتھ دھونے کے ساتھ ہی روانہ ہوجائیں۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بیدار ہو کر منہ ہاتھ دھونے سے فارغ ہوئے تو فورًا دسترخوان سامنے آیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کھانا کھاتے تھے اور قبیلہ بنو سلمہ کے تمام لوگ دورہی دور سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کےدیدار سے مشرف ہوتے تھے، کہ قریب آتے تو شاید آپ کو تکلیف ہوتی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کھانے سے فارغ ہو کر روانہ ہوئے، تو ان کی زوجہ نے پردہ میں سے عرض کیا:یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مجھ پر اور میرے شوہر پر نزول رحمت کی دعا کرتے جائیے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ