شوق دیدار میں بے تاب تھے۔ لیکن آپ کو پہچان نہیں سکتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دھوپ سے بچانے کے لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سر پر چادر تانی ، تو سب کواس کے سایہ میں آفتاب نبوت نظر آیا۔
ۤۤآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم قباء سے مدینہ کی خاص آبادی کی طرف چلے تو جاں نثاروں کا جھرمٹ ساتھ تھا۔ ایک مقام پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ٹھہر گئے اور انصار کو طلب فرمایا۔ سب لوگ حاضر ہوئے،سلام عرض کیا، اور کہا کہ سوار ہوں، کوئی خطرہ نہیں ۔ ہم لوگ فرماں برداری کے لئے حاضر ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور انصار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےگرداگرد ہتھیار باندھے ہوئے تھے۔
قباء سے مدینہ تک دَورَویَہ جاں نثاروں کی صفیں تھیں۔ راہ میں انصار کے خاندان آتے تو ہر قبیلہ سامنے آکر عرض کر تا کہ حضور یہ گھر ہے، یہ مال ہے۔کوکب نبوت شہر کے متصل پہنچا تو ایک عام غل پڑگیا۔لوگ بالاخانہ سے جھانک جھانک کردیکھتے تھے،ا ور کہتے تھے:'' رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آئے ،رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آئے''۔