رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہجرت کی تو آپ کیساتھ طبل و علم، لاؤلشکر خیمہ و خرگاہ کچھ نہ تھا،صرف سواری کی دواونٹنیاں تھیں، اور ساتھ میں ایک جاں نثار رفیق سفر تھا لیکن یہ بے سرو سامان قافلہ جس دن مدینہ پہنچا،مدینہ مسرت کدہ بن گیا۔ عورتوں ، بچوں اور لونڈیوں کی زبان پر یہ فقرہ تھا، رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آئے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آئے۔ ہجرت کی خبر پہلے سے مدینہ میں پہنچ گئی تھی اس لئے تمام مسلمان صبح تڑکے گھر سے نکل کر مدینہ کے باہر استقبال کے لئے جمع ہوتے، دوپہر تک انتظار کرکے واپس چلے جاتے۔
ایک دن حسب معمول لوگ انتظار کر کے چلے گئے تو ایک یہودی نے قلعہ سے دیکھ کر باآواز بلند پکارا کہ اہل عرب !لو تمھارے صاحب آپہنچے ، تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم دفعۃً اُمنڈ پڑے اور ہتھیاروں سے سج سج کر گھروں سے نکل آئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم قباء میں تشریف لائے اور خاندانِ بنو عمروبن عوف کے یہاں اترے تو تمام خاندان نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ انصار ہر طرف سے آتے اور جوش عقیدت کے ساتھ سلام عرض کرتے۔