| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
علیہ وآلہٖ وسلم کیارشاداور ہدایت سے فیض یاب ہونے کے لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ اس لئے ان پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت کا اثر شدت سے پڑتا تھا، ایک بار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ'' یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم یہ کیا بات ہے کہ جب ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےپاس ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں ، زہد و آخرت کا خیال غالب ہو جاتا ہے، پھر جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےپاس سے چلے جاتے ہیں اہل و عیال سے ملتے جلتے ہیں اور بچوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ بات باقی نہیں رہتی ۔'' ارشاد ہوا کہ اگر یہی حالت قائم رہتی تو فرشتے خود تمھارے گھروں میں تمھاری زیارت کو آتے۔
(سنن الترمذی،کتاب صفۃ الجنۃ،باب ماجاء فی صفۃ الجنۃونعیمھا، الحدیث: ۲۵۳۴،ج۴،ص۲۳۶)
ایک با ر حضرت حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ حضر ت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے روتے ہوئے گزرے، دریافت حال پر بولے'' حنظلہ منافق ہوگیا، ہم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم جنت و دوزخ کا ذکر فرماتے ہیں تو ہمارے سامنے ان کی تصویرکھنچ جاتی ہے۔ پھر گھر میں آکر اہل و عیال سے ملتے ہیں اور کھیتی باڑی کے کام میں مصروف ہوتے ہیں تو اس حالت کو بھول جاتے ہیں۔'' حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، ہمارا بھی یہی حال ہوتا ہے، چلو خودحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس چلیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم كي خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اگروہ حالت قائم رہتی تو فرشتے تمھاری مجلسوں میں ،تمھارے بستروں پر، اور تمھارے راستوں میں آکر