Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
209 - 273
    جو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم دنیوی تعلقات سے آزاد ہوجاتے تھے وہ صرف آستانہ نبوت سے وابستگی پیدا کرکے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوتے تھے۔ حضرت قیلہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوگئیں تو بچوں کو ان کے چچا نے لے لیا۔ اب وہ تمام دنیوی جھگڑوں سے آزادہو کر ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خدمت مبارک میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي تعلیمات و تلقینات سے عمر بھر فائدہ اٹھاتی رہیں۔
    (الطبقات الکبری،تذکرۃ قیلۃ بنت مخرمۃ،ج۸،ص۲۴۰)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی قدر دور مقام عالیہ میں رہتے تھے اس لئے روزانہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےفیض صحبت سے متمتع نہ ہوسکتے تھے۔ تاہم یہ معمول کرلیا تھا کہ ایک روز خود آتے تھے اور دوسرے روز اپنے اسلامی بھائی حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجتے تھے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم كي تعلیمات و ارشادات سے محروم نہ رہنے پائیں۔
 (صحیح البخاری،کتاب العلم، باب التناوب فی العلم، الحدیث:۸۹، ج۱، ص۵۰)
    دنیا میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فیض صحبت اٹھانے کے ساتھ بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے خواہش کی کہ آخرت میں بھی یہ دولت جاودانی نصیب ہو، حضرت ربیعہ بن کعب اور حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہی تمنا ظاہر کی اور مژدہ جانفزا سے سرفراز ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي صحبت کا اثر
    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم چونکہ نہایت خلوص و صفائے قلب کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ
Flag Counter