آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا چہرہ قرآن کے ورق کی طرح صاف تھا ہم نے کوئی منظر ایسا نہ دیکھا جو ہمیں رخ انور کے اس منظر سے زیادہ خوشگوار ہو جب چہرہ مبارک ہم پر نمودار ہوا۔
بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو آنکھیں صرف اس لئے عزیز تھیں کہ ان کے ذریعے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا تھا۔ لیکن جب خداعزوجل نے ان کو اس شرف سے محروم کردیا تو ، وہ آنکھوں سے بھی بے نیاز ہوگئے۔
ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں جاتی رہیں ، لوگ عیادت کو آئے توانھوں نے کہا کہ ان سے مقصود تو صرف رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا دیدار تھا۔ لیکن جب آپ کا وصال ہوگیا، تو اگر میرے عوض تبالہ کی ہرنیاں اندھی ہوجائیں اور میری بینائی لوٹ آئے تب بھی مجھے پسند نہیں۔