Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
208 - 273
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا چہرہ قرآن کے ورق کی طرح صاف تھا ہم نے کوئی منظر ایسا نہ دیکھا جو ہمیں رخ انور کے اس منظر سے زیادہ خوشگوار ہو جب چہرہ مبارک ہم پر نمودار ہوا۔ 

    بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو آنکھیں صرف اس لئے عزیز تھیں کہ ان کے ذریعے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا تھا۔ لیکن جب خداعزوجل نے ان کو اس شرف سے محروم کردیا تو ، وہ آنکھوں سے بھی بے نیاز ہوگئے۔

ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں جاتی رہیں ، لوگ عیادت کو آئے توانھوں نے کہا کہ ان سے مقصود تو صرف رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا دیدار تھا۔ لیکن جب آپ کا وصال ہوگیا، تو اگر میرے عوض تبالہ کی ہرنیاں اندھی ہوجائیں اور میری بینائی لوٹ آئے تب بھی مجھے پسند نہیں۔
         (الادب المفرد، باب العیادۃ من الرمد،الحدیث:۵۴۳،ص۱۵۳)
شوقِ صحبتِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا فیض ایک ایسی دولت جاودانی تھا جس پر صحابہ کر ام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہر قسم کے دنیوی مال و متاع کو قربان کر دیتے تھے۔

    ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تمہیں ایک مہم پر بھیجنا چاہتا ہوں، خداعزوجل مال غنیمت دے گا تو تم کو معتدبہ حصہ دوں گا۔بولے ،میں مال کے لئے مسلمان نہیں ہوا صرف اس لئے اسلام لایا ہوں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا فیض صحبت حاصل ہو۔
    (الادب المفرد، باب المال الصالح للمرء الصالح،الحدیث:۳۰۲،ص۹۶)
Flag Counter