Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
207 - 273
شوقِ دیدارِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
     رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ایمان کا باعث ہوتا تھا اس بنا پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے نہایت مشتاق رہتے تھے۔ جب سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو تشنگانِ دیدار میں جن لوگوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہیں دیکھا تھا وہ آپ کو پہچان نہ سکے لیکن جب دھوپ آئی اورحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کے اوپر اپنی چادر کا سایہ کیا، تو سب نے اس سایہ میں آفتاب نبوت کی دید سے اپنا ایمان تازہ کیا۔
 (صحیح البخاری،کتاب مناقب الأنصار، باب ھجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ الی المدینۃ، الحدیث:۳۹۰۶،ج۲،ص۵۹۳)
     حجۃ الوداع میں مشتاقان دیدار نے آفتاب نبوت کو ہالے کی طرح اپنے حلقے میں لے لیا، بدوآکر شربت دیدار سے سیراب ہوتے تھے اور کہتے تھے: '' یہ مبارک چہرہ ہے''۔

    حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے مرض الموت کے زمانہ میں جب حجرہ مبارکہ کا پردہ اٹھایااور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حالتِ نمازمیں ملاحظہ فرماکر مسکرائے تو اس آخری دیدارسے صحابۂ  کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر مسرت کی وہ کیفیت طاری ہوئی کہ سوچا نماز ہی توڑدیں اور اس جمال بے مثال کا آج جی بھر کر نظارہ کرلیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    کان وجھہ ورقۃ مصحف ماراء ینا منظرا کان اعجب الینا من وجہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم حین وضح لنا۔ (صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب اھل العلم والفضل احق بالامامۃ ، الحدیث: ۶۸۱،ج۱،ص۲۴۳)
Flag Counter