Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
206 - 273
کے سب ہم آہنگ ہوکر زبان شوق سے یہ رجز پڑھنے لگے
غدا نلقی الاحبہ  محمدا وحزبہ
    ہم کل اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے گروہ سے ملیں گے۔

مصافحہ کی رسم سب سے پہلے ان ہی لوگوں نے ایجاد کی جو اظہار شوق و محبت کا ایک لطیف ذریعہ ہے۔

     دربار نبوت کی غیر حاضری صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک بڑا جرم تھا۔ایک دن حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ نے پوچھا کہ '' تم نے کب سے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي زیارت نہیں کی۔ '' بولے، اتنے دنوں سے ''۔اس پر انھوں نے ان کو برا بھلا کہاتو بولے۔ چھوڑومیں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں جاتا ہوں، ان کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور اپنے اور تمھارے لئے استغفار کی درخواست کروں گا۔
 (سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما، الحدیث:۳۸۰۶،ج۵،ص۴۳۱)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد یہی شوق تھا جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کیمزار کی طرف کھینچ لاتا تھا۔ ایک بار حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور مزار پاک پر اپنے رخسار رکھ دئیے۔ مروان نے دیکھا تو کہا، کچھ خبر ہے، یہ کیا کرتے ہو؟ فرمایا میں اینٹ پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں، رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ہوں۔
 (المسندلامام احمد بن حنبل،مسندابو ایوب انصاری، الحدیث:۲۳۶۴۶، ج۹، ص۱۴۸)
Flag Counter