Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
205 - 273
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جن غلاموں کے ناک کان کاٹ لئے گئے ہیں یا ان کو جلادیا گیا ہے، وہ آزاد ہیں، اور وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے مولیٰ ہیں۔ لوگ یہ سنکر ایک خواجہ سر اکو لائے جس کا نام سندر تھا، آپ نے اس کو آزاد کردیا، آپ کی وفات کے بعد وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانہ خلافت میں آتا تو دونوں بزرگ اس کے ساتھ عمدہ سلوک کرتے، اس نے ایک بار مصر جانا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخط لکھ دیاکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وصیت کے موافق اس کے ساتھ عمدہ سلوک کرنا۔
 (المسندلامام احمد بن حنبل، حدیث عبداللہ بن عمروبن العاص، الحدیث : ۶۷۲۲، ج۲،ص۶۰۳)
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی اور اس کے اہل و عیال کی بیت المال سے کفالت کرتے تھے، اور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گورنر مصر کو لکھا تھا کہ اس کو کچھ زمین دے دی جائے۔    (المرجع السابق)
لیکن اس روایت میں اس کے نام کی تصریح نہیں، ممکن ہے یہ کوئی دوسرا غلام ہو۔
شوقِ زیارتِرسولصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کیشوق زیارت سے لبریز تھے اس لئے جب زیارت کا وقت قریب آتا تو یہ جذبہ اوربھی ابھرجاتا، اور اس کا اظہار مقدس نغمہ سنجی کی صورت میں ہوتا۔

     حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب اپنے رفقا ء کے ساتھ مدینہ پہنچے تو سب
Flag Counter