Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
204 - 273
رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی انکی نہایت توقیر و عزت کرتے تھے ۔
     حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عطیہ ساڑھے تین ہزار اور اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تین ہزار مقرر فرمایا، تو انہوں نے اعتراض کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجھ پر کیوں ترجیح دی، وہ تو کسی جنگ میں مجھ سے آگے نہ رہے۔ بولے، اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باپ تمہارے باپ سے زیادہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو محبوب تھے اور اسامہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لئے میں نے اپنے محبوب پر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے محبوب کو ترجیح دی۔
 (سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب زید بن حارثۃ، الحدیث:۳۸۳۹،ج۵، ص۴۴۵)
ایک بار حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کے گوشے میں دامن گھسیٹتا ہوا پھررہا ہے، بولے یہ کون شخص ہے؟ ایک آدمی نے کہا: آپ ان کو نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اسامہ ہیں، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ سنکر گردن جھکالی، اور زمین پر ہاتھ مار کر کہا: اگر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ان کو دیکھتے تو ان سے محبت فرماتے۔
 (صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب ذکر اسامۃ بن زید، الحدیث:۳۷۳۴،ج۲،ص۵۴۳)
    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نہ صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےدوستوں کی عزت کرتے تھے بلکہ آپ نے جن غلاموں کو آزاد کرکے اپنا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) بنالیا تھا ان کے ساتھ بھی نہایت لطف و مدارات کے ساتھ پیش آتے تھے۔
Flag Counter