| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
محبوب ہیں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو میرے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور میں رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کو اپنی محبت پرترجیح دیتاہوں ۔
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاانتقال ہواتو بنو ہاشم نے الگ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے الگ انصار کی تمام آبادیوں میں اس کا اعلان کروادیا ۔ لوگ اس کثرت سے جمع ہوئے کہ کوئی شخص تابوت(جنازہ مبارک) کے پاس نہیں جاسکتا تھا، خود بنو ہاشم کے لوگوں نے اس طرح گھیرلیاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سپاہیوں کے ذریعے سے ان کو ہٹایا۔(الطبقات الکبری،تذکرۃ عباس بن عبدالمطلب،ج۴،ص۲۳)
عرب میں جب قحط پڑتا تھا، تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے وسیلہ سے بارش کی دعا مانگتے تھے ، اور کہتے تھے کہ خدا وندا ہم پہلے اپنے پیغمبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو وسیلہ بناتے تھے اور تو پانی برساتا تھا، اور اب اپنے پیغمبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے چچا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وسیلہ بناتے ہیں، ہمارے لئے پانی برسا۔
(صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب ذکر العباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، الحدیث:۳۷۱۰،ج۲،ص۵۳۷)
ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شفاء بنت عبداللہ العدویہ کوبلا بھیجا ،وہ آئیں تو دیکھا کہ عاتکہ بنت اسید پہلے سے موجود ہیں ، کچھ دیر کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو ایک ایک چادر دی، لیکن شفا کی چادر کم درجہ کی تھی، اس لئے انہوں نے کہا کہ میں عاتکہ سے زیادہ قدیم الاسلام اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی چچا زاد بہن ہوں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے خاص اس غرض کے لئے بلایا تھا اور عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو یونہی آگئی تھیں، بولے میں نے یہ چادر تمہیں ہی دینے کے لئے رکھی تھی، لیکن جب عاتکہ آگئیں تو مجھے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی قرابت کا لحاظ کرنا پڑا۔
ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شفاء بنت عبداللہ العدویہ کوبلا بھیجا ،وہ آئیں تو دیکھا کہ عاتکہ بنت اسید پہلے سے موجود ہیں ، کچھ دیر کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو ایک ایک چادر دی، لیکن شفا کی چادر کم درجہ کی تھی، اس لئے انہوں نے کہا کہ میں عاتکہ سے زیادہ قدیم الاسلام اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی چچا زاد بہن ہوں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے خاص اس غرض کے لئے بلایا تھا اور عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا