| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
حضرت ابو الطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی کر م اللہ وجہہ کے بہت بڑے حامی تھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے انتقال کے بعد ایک بار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تمہارے دوست ابوالحسن کے غم میں تمہارا کیا حال ہے؟ بولے، موسیٰ علیہ السلام کے غم میں جو حال ان کی ماں کا تھا۔
(اسدالغابۃ، تذکرۃ ابوطفیل عامر بن واثلۃ،ج۶،ص۱۹۲)
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وراثت کا مطالبہ کیا ،ا ور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی قرابت کے حقوق جتائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع پر جو تقریر کی اس میں خاص طورپر اہل بیت کی محبت کا بیان کیا اور کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی قرابت کے حقوق کا لحاظ مجھے اپنی قرابت سے زیادہ ہے۔ اُن لوگوں کو بھی اِن کے حقوق کا لحاظ رکھنے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب قرابۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، الحدیث:۳۷۱۲،ج۲،ص۵۳۸)
ایک بار حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک معاملہ میں حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اصرار کیااور کہا کہ یاامیر المومنین! اگر موسیٰ علیہ السلام کے چچا آپ کے پاس مسلمان ہوکر آتے تو آپ کیا کرتے، بولے انکے ساتھ حسن سلوک کرتا حضرت عباس نے کہاتو پھر میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کاچچا ہوں، بولے اے ابو الفضل آپ کی کیارائے ہے، خدا عزوجل کی قسم!آپ کے باپ مجھے اپنے باپ سے زیادہ