Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
200 - 273
ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک راستے سے گزرے دیکھا کہ حضر ت حسن علی جدہ وعلیہ السلا م کھیل رہے ہیں، اٹھاکر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور یہ شعر پڑھا
وابابی شبہ النبی     لیس شبیھا بعلی
    میرے باپ تم پر قربان کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمشکل ہو، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشابہ نہیں، حضر ت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم بھی ساتھ تھے وہ ہنس پڑے۔
 (المسند لامام احمد بن حنبل،مسند ابی بکرالصدیق ، الحدیث: ۴۰، ج۱، ص۲۸)
ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام حسن علی جدہ وعلیہ السلا م سے ملے اور کہا کہ ذرا پیٹ کھولئے جہاں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے بوسہ دیا تھا وہیں میں بھی بوسہ دوں گا، چنانچہ انہوں نے پیٹ کھولا اور انہوں نے وہیں بوسہ دیا۔
 (المسندلامام احمد بن حنبل،مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:۹۵۱۵،ج۳،ص۴۱۵)
    ایک بار بہت سے لوگ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں بیٹھے ہوئے تھے، اتفاق سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنکلے اور سلام کیا،سب نے سلام کا جواب دیا، لیکن حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے، جب سب چپ ہوئے توبآواز بلند کہا السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ یہ کہہ کر سب کی طرف مخاطب ہوکر کہا، میں تمہیں بتاؤں کہ زمین کے رہنے والوں میں، آسمان والوں کو سب سے محبوب شخص کون ہے؟ یہی جو جارہا ہے ، جنگ صفین کے بعد سے انہوں نے مجھ سے بات چیت نہیں کی، اگر وہ مجھ سے راضی ہوجائیں تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔
   (اسدالغابۃ،تذکرۃ عبداللہ بن عمروبن العاص،ج۳،ص۳۵۸)
Flag Counter