Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
198 - 273
بولے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اس لو اور گرمی میں کھلے ہوئے میدان میں ہوں اور ابو خیثمہ سایہ، سرد پانی ، عمدہ غذا اور خوبصورت عورتوں کے ساتھ لطف اٹھائے خدا عزوجل کی قسم! یہ انصاف نہیں ہے، میں ہرگز بالا خانہ پر نہ آؤنگا چنانچہ اسی وقت زادراہ لیا اور تبوک کی طرف روانہ ہوگئے۔
        (اسدالغابۃ، تذکرۃ مالک بن قیس بن خیثمۃ،ج۵،ص۴۷)
وصال کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یاد آتے تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بے اختیار رو پڑتے۔ایک دن حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اور جمعرات کا دن کس قدر سخت تھا، اس کے بعد اس قدر روئے کہ زمین کی کنکریاں آنسو سے تر ہوگئیں۔ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا جمعرات کا دن کیا؟ بولے اسی دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کیمرض الموت میں شدت آئی تھی ۔
 (صحیح مسلم ، کتاب الوصیۃ، باب ترک الوصیۃ لمن لیس لہ شیئ یوصی فیہ ، الحدیث:۱۶۳۷،ص۸۸۸)
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي مبارک صحبتوں کی یاد آتی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوجاتے۔ ایک بار حضرت ابوبکر اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما انصار کی ایک مجلس میں گئے تو دیکھا کہ سب لوگ رورہے ہیں، سبب پوچھا تو بولے کہ ہم کو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس یادآگئی، علامہ ابن حجررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي علالت کے زمانہ کا ہے،جس میں انصار کو یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر اس مرض میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہواتوآپ کی مجلس میسر نہ ہوگی، اس لئے وہ اس غم میں رو پڑے۔
Flag Counter