اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کسی چیز سے متمتع نہ ہوتے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس سے متمتع ہونا پسند نہ کرتے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كاوصال ہوا تو آپ کے کفن کے لئے ایک حلہ خریدا گیا لیکن بعد میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلمدوسرے کپڑے میں کفنائے گئے، اور یہ حلہ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے لے لیا کہ اس کو اپنے کفن کے لئے محفوظ رکھیں گے لیکن پھر کہا کہ جب خداعزوجل کی مرضی نہ ہوئی کہ وہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا کفن ہو، تومیرا کیوں ہو۔ یہ کہہ کر اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت صدقہ کردی۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب فی کفن المیت، الحدیث:۹۴۱،ص۴۶۹)
غزوہ تبوک سخت گرمیوں کے زمانے میں واقع ہوا تھا، حضرت ابو خیثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی تھے جو اس غزوہ میں شریک نہ ہوسکے تھے ایک دن وہ گھر میں آئے تو دیکھا کہ ان کی ازواج نے ان کی آسائش کے لئے نہایت سامان کیا ہے ، بالا خانے پر چھڑکاؤکیا ہے ، پانی سرد کیا ہے عمدہ کھانا تیار کیا ہے لیکن وہ تمام سامان عیش دیکھ کر