آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عموماً فقرو فاقہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سامنے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خانگی زندگی کا یہ منظرآجاتا تو فرط محبت سے آبدیدہ ہوجاتے۔
ایک بار حضر ت عمر رضی اللہ عنہ دولت سرائے اقدس میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم چٹائی پرلیٹے ہوئے ہیں ، جس پر کوئی بستر نہیں ہے۔ جسم مبارک پر تہبند کے سوا کچھ نہیں، پہلو میں چٹائی کے نشانات پڑے ہیں، توشہ خانہ میں مٹھی بھر جوکے سوا اور کچھ نہیں ، آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے، ارشاد ہوا کہ عمر کیوں روتے ہو؟ بولے، کیوں نہ روؤں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي یہ حالت ہے اورقیصرو کسریٰ دنیا کے مزے اڑارہے ہیں، فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت اوران کے لئے دنیا ہو۔