| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
عزت اور محبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کےآرام و آسائش کا نہایت خیال رکھتے تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کسی قسم کی تکلیف گوارا نہیں کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ایک سفرمیں تھے جس میں ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت اہتمام کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کیلئے پانی ٹھنڈا کرتے تھے۔(صحیح مسلم،کتاب الزہدوالرقائق،باب حدیث جابر الطویل، الحدیث۳۰۰۶، ص۱۶۰۲)
ایک عورت تھی جو ہمیشہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں جھاڑو دیا کرتی تھی، اس کا انتقال ہوگیا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اسکو دفن کردیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو اطلاع نہ دی،اپ صلیاللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا، کہ مجھے کیوں نہیں خبرکی بولے ہم نے تکلیف دینا گوارا نہ کیا، اسی طرح ایک اور صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوگیا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر نہ کی اور کہا کہ اندھیری رات تھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو زحمت ہوتی۔
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الصلوۃ علی القبر، الحدیث: ۱۵۲۸۔۱۵۳۰،ج۲،ص۲۳۳۔۲۳۴)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كو جو چیز محبوب ہوتی وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كي محبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی محبوب ہوجاتی۔'' کدو'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم كو بہت مرغوب تھا اس لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کو نہایت پسند فرماتے تھے، چنانچہ ایک روز کدوکھارہے تھے تو خود بخود بول اٹھے، اس بنا پر کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو تجھ سے محبت تھی ، تو مجھے کس قدر محبوب ہے ۔
(سنن الترمذی،کتاب الاطعمۃ، باب ماجاء فی اکل الرباء ، الحدیث: ۱۸۵۶، ج۳، ص۳۳۶)