Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
192 - 273
رسالت کا اقرار کیا، اور آپ کی باتیں سنتے رہے۔
(سنن ابی داود،کتاب النکاح، باب تزویج من لم یولد، الحدیث:۲۱۰۳، ج۲، ص۳۴۰)
حضرت زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بدوی صحابی تھے، جو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے نہایت محبت رکھتے تھے، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کرتے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ان سے محبت رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے، کہ زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے بدوی ہیں اور ہم ان کے شہری ہیں۔ 

    ایک دن وہ اپنا سودا فروخت کررہے تھے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پیچھے سے آکر ان کو گود میں لے لیا، انہوں نے کہا کون ہے؟ چھوڑدو! لیکن مڑ کر دیکھا اور معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم هيں تو اپنی پشت کو بار بار آپ کے سینہ سے چمٹاتے تھے اور تسکین نہیں ہوتی تھی۔
 (شمائل ترمذی،باب ماجاء فی صفۃ مزاج رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث:۲۳۸،ج۵،ص۵۴۵)
عرب میں یہ خیال تھا کہ اگر کسی کے پاؤں سن ہوجائیں اوروہ اپنے محبوب کو یادکرے تو یہ کیفیت زائل ہوجاتی ہے۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے پاؤں سن ہوگئے تو کسی نے کہا اپنے محبوب کویاد کرلو، بولے یا محمداہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم)
 (الأدب المفرد،باب مایقول الرجل اذاخدرت رجلہ ، الحدیث:۹۹۳،ص۲۶۱)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک صحابیہ تھیں ، جب وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کاذکر کرتیں تو فرط مسرت سے کہتیں ''بابی'' یعنی میرے باپ آپ پرقربان ۔
 (سنن النسائی، کتاب الحیض والاستحاضۃ، باب شھودالحیض العیدین ودعوۃ المسلمین، ج۱،ص۱۹۳)
Flag Counter