| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت کی کہ انکو خادمہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لقب حاصل ہوا۔
(سنن ابی داود،کتاب الطب، باب فی الحجامۃ، الحدیث:۳۸۵۸،ج۴،ص۶)
حضرت سفینہ حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہما کی والدہ کے غلام تھے۔ انہوں نے ان کو اس شرط پر آزاد کرنا چاہا کہ وہ اپنی عمر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت گزاری میں صرف کردیں، انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ شرط نہ بھی کرتیں تب بھی میں تانفسِ واپسیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت سے علیحدہ نہ ہوتا۔
(سنن ابی داود، کتاب العتق، باب العتق علی الشرط،الحدیث:۳۹۳۲، ج۴،ص۳۱)
ان بزرگوں کے علاوہ اکثر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے ان کو بھی عموماً شرف خدمت حاصل ہوا کرتا تھا، ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم رفع حاجت کے لئے بیٹھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پانی کا کوزہ لیکر کھڑے رہے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا عمر کیا ہے؟ بولے کہ وضو کا پانی، فرمایا کہ ہر وقت اس کی ضرور ت نہیں ۔
(سنن ابی داود،کتاب الطھارۃ، باب فی الاستبراء ، الحدیث:۴۲،ج۱،ص۴۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جو ہمیشہ خدمت مبارک میں حاضر رہتے تھے انکو اکثر یہ شرف حاصل ہوتا کہ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم رفع حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو وہ کسی طشت یا کوزہ میں پانی لاتے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم وضو کرتے۔
(سنن ابی داود،کتاب الطہارۃ ، باب الرجل یدلک یدہ بالأرض اذا استنجی، الحدیث:۴۵،ج۱،ص۵۰)