| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
پانی انکے ساتھ ہوتا، اس لئے وہ صاحب سواد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم یعنی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے میر سامان کہے جاتے تھے ۔
(الطبقات الکبری،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، ج۳،ص۱۱۳)
حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی شب و روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں مصروف رہتے جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر دولت سرائے اقدس میں تشریف لے جاتے تو وہ دروازے پر بیٹھ جاتے کہ مبادا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو کوئی ضرورت پیش آجائے۔
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کو نکاح کرنے کا مشورہ دیا، بولے یہ تعلق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت گزاری میں خلل انداز ہوگا جسکو میں پسند نہیں کرتا۔ لیکن آپ کے بار بار کے اصرار سے شادی کرنے پر رضا مند ہوگئے ۔(المسند لامام احمد بن حنبل، حدیث ربیعۃ ابن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ، الحدیث:۱۶۵۷۷،ج۵،ص۵۶۹)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے مستقل خدمت گزار تھے، ان کا کام یہ تھا کہ سفر میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی اونٹنی کو ہانکتے ہوئے چلتے تھے۔
(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب چہارم،ج۲،ص۴۹۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بچپن ہی سے ان کی والدہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا۔
(الاصابۃ ،انس بن مالک بن النضر،ج۱،ص۲۷۶ملخصًا)
حضرت سلمیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک صحابیہ تھیں، جنہوں نے اس استقلال کے ساتھ