Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
187 - 273
    ایک بار کسی مشرک سے اس غرض کے لئے قرض لیا۔ لیکن ایک دن اس نے دیکھا تو نہایت سخت لہجے میں کہا، او حبشی تجھے معلوم ہے کہ اب مہینے میں کتنے دن رہ گئے ہیں صرف چار دن اسی عرصہ میں قرض وصول کرلوں۔ ورنہ جس طرح تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا اسی طرح بکریاں چرواؤں گا۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے سخت رنج ہوا، عشاء کے بعد  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ مشرک نے مجھے یہ کچھ کہا ہے ، اور وہ مجھے ذلیل کررہا ہے، اجازت فرمائیے تو جب تک قرض ادا نہ ہوجائے مسلمان قبائل میں بھاگ کر پناہ لوں ، گھر واپس آئے تو بھاگنے کا تمام سامان بھی کرلیا، لیکن رزّاق عالم نے صبح تک خود قرض کے ادا کرنے کا تمام سامان کردیا۔
 (سنن ابی داود،کتاب الخراج،باب فی الام یقبل ھدایاالمشرکین، الحدیث: ۳۰۵۵،ج۳،ص۲۳۰)
    حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شرف حاصل تھا، کہ جب  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کہیں جاتے تو وہ پہلے  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو جوتے پہناتے ، پھر آگے آگے عصا لیکر چلتے،  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مجلس میں بیٹھنا چاہتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاؤں سے جوتے نکالتے ، پھر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کو عصا دیتے، جب  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اٹھتے، پھر اسی طرح جوتے پہناتے ، آگے آگے عصا لیکر چلتے ، اور حجرہ مبارکہ تک پہنچ جاتے۔ 

     آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نہاتے تو پردہ کرتے،  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سوتے تو بیدار کرتے،  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سفر میں جاتے تو بچھونا، مسواک جوتا اور وضو کا
Flag Counter