Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
186 - 273
خداعزوجل کے نزدیک ان کا کوئی عذر قابل سماعت نہ ہوگا۔
 (الموطالامام مالک، کتاب الجھاد،باب الترغیب فی الجھاد،الحدیث:۱۰۳۵، ج۲،ص۲۴)
نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی جاں نثاری کی آرزو رکھتی تھیں، حضرت طلیب بن عمیررضی اللہ عنہ اسلام لائے اور اپنی ماں ارویٰ بنت عبدالمطلب کو اسکی خبردی تو بولیں کہ تم نے جس شخص کی مدد کی وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق تھا، اگر مردوں کی طرح ہم بھی استطاعت رکھتیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی حفاظت کرتیں اور آپ کی طرف سے لڑتیں۔
                 (الاستیعاب، تذکرۃ طلیب بن عمیر،ج۲،ص۳۲۳)
خدمتِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت کو اپنا سب سے بڑا شرف خیال کرتے تھے، اس لئے متعدد بزرگوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ابتداء بعثت ہی سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خانہ داری کے تمام کاروبار کا انتظام اپنے ذمے لے لیا تھا، اور اس کے لئے طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں برداشت کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے شرف خدمت کا چھوڑنا کبھی گوارا نہیں کرتے تھے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی غریب مسلمان خدمت مبارک میں حاضر ہوتا اور اس کے بدن پر کپڑے نہ ہوتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ قرض لیکر اسکی خوراک و لباس کا انتظام کرتے۔
Flag Counter