Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
185 - 273
     حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپر لے کر  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تیر چلانے لگے، اور اس شدت سے تیر اندازی کی کہ دو تین کمانیں ٹوٹ گئیں، اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم گردن اٹھاکر کفار کی طرف دیکھتے تھے تو وہ کہتے تھے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں گردن اٹھاکر نہ دیکھیں ، مبادا کوئی تیر لگ جائے میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے ہے۔
 (صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب اذھمت طائفتان منکم أن تفشلاواللہ ولیھما.....الخ،الحدیث:۴۰۶۴،ج۳،ص۳۸)
اس غزوہ میں حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جاں نثاری کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم دائیں بائیں جس طر ف نگاہ اٹھاکر دیکھتے تھے ان کی تلوار چمکتی ہوئی نظر آتی تھی، انہوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سپر بنالیا، یہاں تک کہ اسی حالت میں شہید ہوئے۔
     (الطبقات الکبری،تذکرۃ شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ،ج۳، ص۱۸۶)
اسی غزوہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاش میں روانہ فرمایا، وہ لاشوں کے درمیان ان کو ڈھونڈھنے لگے، تو حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بول اٹھے، کیا کام ہے؟ جواب دیا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے تمہارا ہی پتا لگانے کے لئے بھیجا ہے، بولے جاؤ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کردو، اور کہہ دو کہ مجھے نیزے کے بارہ زخم لگے ہیں، اور اپنے قبیلہ میں اعلان کردو کہ اگر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم شہید ہوگئے اور ان میں کا ایک متنفس بھی زندہ رہا تو
Flag Counter