Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
184 - 273
موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح کہدیں۔تم اور تمہارا خدا دونوں جاؤ اور لڑو۔ بلکہ ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے دائیں سے بائیں سے آگے سے پیچھے سے لڑیں گے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ جاں نثارانہ فقرے سنے تو چہرہ مبارک فرط مسرت سے چمک اٹھا۔
 (صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب قول اللہ تعالٰی،الحدیث:۳۹۵۲،ج۳، ص۵)
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے جا ں نثارانہ جذبات کا ظہور سب سے زیادہ غزوہ احد میں ہوا، چنانچہ اس غزوہ میں کسی مقام پر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ صرف نو صحابہ (جن میں سات انصاری اور دوقریشی یعنی حضرت طلحہ اور حضرت سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہما) رہ گئے۔ اس حالت میں کفار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر دفعۃً ٹوٹ پڑے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان جاں نثاروں کی طرف خطاب کرکے فرمایا: کہ جو ان اشقیاء کو میرے پاس سے ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے۔ ایک انصاری فوراً آگے بڑھے اور لڑ کر  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوگئے۔ اسی طرح کفار برابر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلمپر حملہ کرتے جاتے اور آپ بار بار پکارتے جاتے تھے، اور ایک ایک انصاری بڑھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر اپنی جان قربان کرتا جاتا تھا، یہاں تک کہ ساتوں بزرگ شہید ہوگئے۔
 (صحیح مسلم، کتاب الجھادوالسیر،باب غزوۃ احد،الحدیث:۱۷۸۹، ص۹۸۹)
حضرت ابوطلحہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی جاں نثاری کا وقت آیا، تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آپ نے اپنا ترکش بکھیردیا،اور فرمایا کہ تیر پھینکو ، میرے ما ں باپ تم پر قربان۔
(صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب اذھمت طائفتان منکم أن تفشلاواللہ ولیھما.....الخ،الحدیث:۴۰۵۵،ج۳،ص۳۷)
Flag Counter