| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
بھی اترے تھے، بولے صرف نماز اور قضائے حاجت کے لئے ،ارشاد ہوا: تم کو جنت مل چکی، اس کے بعد اگر کوئی عمل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں۔
(سنن ابی داود،کتاب الجھاد،باب فی فضل الحرس فی سبیل اللہ عزوجل، الحدیث:۲۵۰۱،ج۳،ص۱۴)
ایک غزوہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اس شدت سے سردی پڑی کہ بعض لوگوں نے زمین میں گڑھا کھودا اور اس کے اندر گھس کر اوپر سے ڈھال ڈال دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا: کہ آج کی شب میری حفاظت کون کریگا؟ میں اسکو دعادوں گا، ایک انصاری نے عرض کیا کہ میں !یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے قریب بلاکر ان کا نام پوچھا اور دیر تک دعا دیتے رہے، حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا سنی تو عرض گزار ہوئے کہ میں دوسرا نگہبان بنوں گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے قریب بلاکر نام پوچھا اور ان کو بھی دعا دی ۔
(المسندلامام احمد بن حنبل،حدیث أبی ریحانۃ،الحدیث:۱۷۲۱۳،ج۶،ص ۹۹)
آیت کریمہ :
وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گالوگوں سے۔(پ6،المائدۃ:67) نازل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے لئے پاسبان مقرر کرنا بند کردیا۔ غزوہ بدر میں جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفار کے مقابلے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو طلب کیا تو حضرت مقدادرضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے، ہم وہ نہیں ہیں جو