آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غزوہ حنین کے لئے نکلے تو ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کے وقت خبر دی کہ میں نے آگے جاکر پہاڑ کے اوپر سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ قبیلہ ہوازن کے زن و مرد چو پایوں اور مویشیوں کو لیکر امنڈ آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مسکرائے ، اور فرمایا:کہ اللہ عزوجل نے چاہا توکل یہ مسلمانوں کے لیے غنیمت ہوگا، اور فرمایا : آج میری پاسبانی کون کریگا؟ حضرت انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، میں! یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم، ارشادہوا کہ سوار ہوجاؤ، وہ اپنے گھوڑے پر سوارہوکر آئے تو فرمایا کہ اس گھاٹی کے اوپر چڑھ جاؤ۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نماز فجر کے لئے اٹھے، تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ تمہیں اپنے شہ سوار کی بھی خبر ہے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی ہمیں تو کچھ خبر نہیں، جماعت قائم ہوئی، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز پڑھاتے جاتے تھے اور مڑ مڑ کے گھاٹی کی طرف دیکھتے جاتے تھے۔ نماز ادا کرچکے تو فرمایا : لو مبارک ہو تمہارا شہ سوار آگیا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے گھاٹی کے درختوں کے درمیان سے دیکھا تو وہ آ پہنچے اور خدمت مبارک میں حاضر ہوکر سلام کیا اور فرمایا کہ میں گھاٹی کے بلند ترین حصے پر جہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے مامور فرمایا تھا،چڑھ گیا صبح کو دونوں گھاٹیاں بھی دیکھیں تو ایک جاندار بھی نظر نہ آیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کبھی نیچے