| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حلقہ میں رونق افروز تھے کسی ضرورت سے اٹھے تو پلٹنے میں دیر ہوگئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم گھبرا گئے کہ خدانخواستہ دشمنوں کی طرف سے کوئی چشم زخم تو نہیں پہنچا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسی پریشانی کی حالت میں گھبراکر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی جستجو میں انصار کے ایک باغ میں پہنچے۔ دروازہ ڈھونڈا، تو نہیں ملا، دیوار میں پانی کی ایک نالی نظر آئی اس میں گھس کرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی پریشانیوں کی داستان سنائی۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب دلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا، الحدیث:۳۱،ص۳۷)
غزوات میں یہ خطرات اور بھی بڑھتے جاتے تھے، اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جاں نثاری میں اور بھی ترقی ہوتی جاتی تھی۔ غزوہ ذات الرقاع میں ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہنے ایک مشرک کی بیوی کو گرفتار کیا۔ اس نے انتقام لینے کے لئے قسم کھالی کہ جب تک اصحاب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں سے کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون سے زمین کو رنگین نہ کرلوں گا، چین نہ لوں گا، اس لئے جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم واپس ہوئے، اس نے تعاقب کیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منزل پرفروکش ہوئے تو دریافت فرمایا کہ کون میری حراست کی ذمہ داری اپنے سر لے گا۔ مہاجرین وانصار دونوں میں سے ایک ایک بہادر اس شرف کو حاصل کرنے کے لئے اٹھے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے حکم دیا کہ گھاٹی کے دہانے پر جاکر متمکن ہوجائیں ( کہ وہی کفار کی کمین گاہ ہوسکتا تھا) دونوں بزرگ وہاں پہنچے تو مہاجر